عذاب کومؤخر کرنا مراد ہے یعنی بنی اسرائیل پر عذاب نازل نہ ہوا بلکہ انہیں مزید مہلت دی گئی۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۵۶)
ایک قول یہ ہے کہ فضل ِ الٰہی اور رحمت ِحق سے حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذات پاک مراد ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتم المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔(بیضاوی، البقرۃ،تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۳۳۶، روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۳۸۲، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمخلوق پر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہیں اور رحمت بھی ہیں۔
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیۡنَ اعْتَدَوۡا مِنۡکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَہُمْ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِـِٕیۡنَ﴿ۚ۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یقینا تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں سرکشی کی۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔
{الَّذِیۡنَ اعْتَدَوۡا:جنہوں نے سرکشی کی۔} شہر اَیْلَہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھا کہ ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کردیں اوراس روز شکار نہ کریں اور دنیاوی مشاغل ترک کردیں۔ ان کے ایک گروہ نے یہ چال چلی کہ وہ جمعہ کے دن شام کے وقت دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودتے اور ہفتہ کے دن ان گڑھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہوجاتیں اور اتوار کے دن انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے ہفتے کے دن تو نہیں نکالتے، یہ کہہ کر وہ اپنے دل کو تسلی دے لیتے۔ چالیس یا ستر سال تک ان کا یہی عمل رہا اور جب حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کازمانہ آیا توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں اس سے منع کیااور فرمایا کہ قید کرنا ہی شکار ہے جو تم ہفتے ہی کو کر رہے ہو۔ جب وہ باز نہ آئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان پر لعنت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ نوجوان بندروں کی شکل میں اور بوڑھے خنزیروں کی شکل میں مسخ ہوگئے، ان کی عقل اور حواس تو باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی اور بدنوں سے بدبو نکلنے لگی، وہ اپنے اس حال