یاد رہے کہ دین قبول کرنے پر جبر نہیں کیا جاسکتا البتہ دین قبول کرنے کے بعد اس کے احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کسی کو اپنے ملک میں آنے پر حکومت مجبور نہیں کرتی لیکن جب کوئی ملک میں آجائے تو حکومت اسے قانون پر عمل کرنے پر ضرور مجبور کرے گی۔
احکامِ قرآن پر عمل کی ترغیب:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی کتابوں سے مقصود ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ہے نہ فقط زبان سے بِالتَّرتیب ان کی تلاوت کرنا۔اس کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کے کسی حکمران کی طرف کوئی خط بھیجے اور اس میں حکم دے کہ فلاں فلاں شہر میں اس کے لئے ایک محل تعمیر کر دیا جائے اور جب وہ خط اس حکمران تک پہنچے تو وہ اس میں دئیے گئے حکم کے مطابق محل تعمیر نہ کرے البتہ اس خط کو روزانہ پڑھتا رہے ،تو جب بادشاہ وہاں پہنچے گا اور محل نہ پائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ حکمران عتاب بلکہ سزا کا مستحق ہو گا کیونکہ اس نے بادشاہ کا حکم پڑھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا تو قرآن بھی اسی خط کی طرح ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ دین کے ارکان جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کی تعمیر کریں اور بندے فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کا فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہنا حقیقی طور پر فائدہ مند نہیں۔
(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱/۱۵۵، ملخصاً)
یہی بات امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی متعدد جگہ ارشاد فرمائی ہے۔
ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمْ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اس کے بعد پھر تم نے روگردانی اختیار کی تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔
{فَضْلُ اللہِ: اللہ کا فضل۔}یہاں فضل و رحمت سے یا تو توبہ کی توفیق مراد ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق مل گئی اور یا