پر روتے رہے یہاں تک کہ تین دن میں سب ہلاک ہوگئے، ان کی نسل باقی نہ رہی اور یہ لوگ ستر ہزار کے قریب تھے۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۵، ۱/۱۵۶-۱۵۷، تفسیر عزیزی (مترجم)، ۲/۴۹۲-۴۹۴، ملتقطاً)
اس واقعہ کی مزید تفصیل سورہ اعراف کی آیت 163تا 166 میں آئے گی۔
حیلہ کرنے کا حکم:
یاد رہے کہ حکم ِشرعی کو باطل کرنے کیلئے حیلہ کرنا حرام ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا اور حکمِ شرعی کو کسی دوسرے شرعی طریقے سے حاصل کرنے کیلئے حیلہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن پاک میں حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اس طرح کا عمل سورہ ص آیت44میں مذکور ہے۔
فَجَعَلْنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَمَا خَلْفَہَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیۡنَ﴿۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو ہم نے (اس بستی کا)یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لئے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔
ترجمۂکنزالعرفان:تو ہم نے یہ واقعہ اس وقت کے لوگوں اور ان کے بعد والوں کے لیے عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت بنادیا۔
{نَکَالًا: عبرت۔ }اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں عذاب کے واقعات ہماری عبرت و نصیحت کیلئے بیان کئے گئے ہیں لہٰذا قرآن پاک کے حقوق میں سے ہے کہ اس طرح کے واقعات و آیات پڑھ کر اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ کی جائے۔
وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہٖۤ اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللہِ اَنْ اَکُوۡنَ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ﴿۶۷﴾ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌ ؕ عَوَانٌۢ بَیۡنَ ذٰلِکَ ؕ فَافْعَلُوۡا مَا تُؤْمَرُوۡنَ﴿۶۸﴾ قَالُوا ادْعُ لَنَا