اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پرطور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک ایمان والوں نیزیہودیوں اورعیسائیوں اور ستاروں کی پوجا کرنے والوں میں سے جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہار ے سروں پر طورپہاڑ کو معلق کردیا(اور کہا کہ) مضبوطی سے تھامو اس (کتاب) کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے یاد کرواس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
{وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَکُمْ:اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا۔}اس آیت میں یہودیوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ توریت کومانیں گے اور اس پر عمل کریں گے لیکن پھر انہوں نے اس کے احکام کوبوجھ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کردیاحالانکہ انہوں نے خود بڑی التجاء کرکے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ایسی آسمانی کتاب کی درخواست کی تھی جس میں قوانینِ شریعت اور آئینِ عبادت مفصل مذکور ہوں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے بار بار اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا اور جب وہ کتاب عطا ہوئی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور عہد پورا نہ کیا ۔ جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں کے اوپر ہوا میں معلق کردیا اور حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا :تم یاتو عہد قبول کرلو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم کچل ڈالے جاؤ گے۔‘‘ اس میں صورۃً عہد پورا کرنے پر مجبور کرنا پایا جارہا ہے لیکن درحقیقت پہاڑ کا سروں پر معلق کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی قوی دلیل ہے جس سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ بے شک حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے اور یہ اطمینان ان کو ماننے اور عہد پورا کرنے کا اصل سبب ہے۔