Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
129 - 520
جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس دن روزہ رکھا تھا۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے،چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا۔ 
(بخاری، کتاب الصوم، باب صیام یوم عاشورائ،۱/۶۵۶، الحدیث: ۲۰۰۴، مسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورائ، ص۵۷۲، الحدیث: ۱۲۸(۱۱۳۰))
	البتہ صرف دس محرم کا روزہ نہ رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ آگے یا پیچھے ایک روزہ ملایا جائے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو، عاشوراء کے دن سے پہلے یا بعد میں ایک دن کا روزہ رکھو۔ (مسند امام احمد، ۱/۵۱۸، الحدیث: ۲۱۵۴)
	اس سے معلوم ہواکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لاناسنت ہے اگرچہ کفار بھی اس یادگار کو قائم کرتے ہوں۔
وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنۡۢ بَعْدِہٖ وَاَنۡتُمْ ظٰلِمُوۡنَ﴿۵۱﴾ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ﴿۵۲﴾
 ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم نے موسٰی سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے ۔پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی کہ کہیں تم احسان مانو ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم واقعی ظالم تھے۔پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی عطا فرمائی تاکہ تم شکر ادا کرو۔ 
{وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً:اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا۔}اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں بنی اسرائیل  پر کی گئی جو نعمت بیان ہوئی ،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے تو ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے تورات عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا اور اس کیلئے تیس دن اور پھر دس دن کا اضافہ کرکے چالیس دن کی مدت مقرر ہوئی جیسا کہ سورۂ اعراف آیت 142میں ہے۔ان چالیس دنوں میں ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے شامل تھے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ