Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
130 - 520
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم پر حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنانائب بنا کر تورات حاصل کرنے کوہ طور پر تشریف لے گئے، چالیس دن رات وہاں ٹھہرے اور اس عرصہ میں کسی سے بات چیت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے تختیوں پر تحریری صورت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تورات عطافرمائی ۔ 
	دوسری طرف سامری نے جواہرات سے مزین سونے کا ایک بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے۔ وہ لوگ ایک مہینے تک حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا انتظار کرنے کے بعدسامری کے بہکانے سے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے،ان پوجا کرنے والوں میں تمام بنی اسرائیل شامل تھے، صرف حضرت ہارونعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کے بارہ ہزارساتھی اِس شرک سے دور و نفور رہے ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام واپس تشریف لائے تو قوم کی حالت دیکھ کر انہیں تنبیہ کی اور انہیں ان کے گناہ کا کفارہ بتایا،چنانچہ جب انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ ان مُرتَد ہونے والوں کی توبہ کا بیان آیت نمبر53کے بعد آرہا ہے۔
وَ اِذْ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَہۡتَدُوۡنَ﴿۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم نے  موسٰیکو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ پر آؤ ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اوریاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں فرق کرناتاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔
{الْفُرْقَانَ: فرق کرنا۔} فرقان کے کئی معانی کئے گئے ہیں : (۱) فرقان سے مراد بھی تورات ہی ہے۔ (۲)کفر وایمان میں فرق کرنے والے معجزات جیسے عصا اور ید ِبیضاء وغیرہ ۔(۳)حلال و حرام میں فرق کرنے والی شریعت مراد ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۵۲)
وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنۡفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ عِنۡدَ بَارِئِکُمْ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ﴿۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب  موسٰی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا