Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
128 - 520
اس آیت میں اگر ’’ذٰلِکُمۡ‘‘ کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو ’’بلا ‘‘سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف اشارہ ہو تو ’’بلا‘‘سے نعمت مراد ہوگی۔ 
وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنۡتُمْ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۵۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور(یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لئے دریا کوپھاڑ دیا تو ہم نے تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے غرق کردیا۔
{وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ:اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا۔ }یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم سمیت ان کے سامنے غرق کردیاجس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حکمِ الٰہی پررات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کرمصر سے روانہ ہوئے۔ صبح کو فرعون ان کی جستجو میں ایک بھاری لشکر لے کر نکلا اور انہیں دریا کے کنارے پرپالیا، بنی اسرائیل نے فرعون کے لشکر کو دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فریاد کی، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریاپر اپنا عصا مارا۔اس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک راستے پیدا ہوگئے اور پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیااور ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے۔ بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی ۔ فرعون بھی اپنے لشکر سمیت ان دریائی راستوں میں داخل ہوگیالیکن جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا اپنی اصلی حالت پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے اوربنی اسرائیل دریاکے کنارے فرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے۔
(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۱/۳۱۸-۳۱۹، بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۱/۳۲۲، ملتقطاً)
انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ہونے والے انعام کی یادگار قائم کرنا سنت ہے:
	 فرعونیوں کا غرق ہونا محرم کی دسویں تاریخ کو ہوا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس دن شکر کا روزہ رکھا۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمافرماتے ہیں :جب حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں ، آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:یہ کیا ہے؟یہودیوں نے عرض کی :یہ نیک دن ہے،یہ وہ دن ہے