Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
102 - 520
اپنے ما تحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ ا س کام سے متعلق ان کے ذہن میں کوئی خلش ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے ۔
	اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے مشورہ کرنے کا حکم دیا،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ‘‘اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔(اٰل عمران: ۱۵۹)
	اور انصار صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیۡنَہُمْ‘‘ اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے۔                                            (شورٰی: ۳۸)
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگااور جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہوگا اور جس نے میانہ روی کی وہ کنگال نہیں ہوگا۔                                             (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵/۷۷، الحدیث: ۶۶۲۷)
{اَتَجْعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفْسِدُ:کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا ۔}اس کلام سے  فرشتوں کا مقصد اعتراض کرنا نہ تھا بلکہ ا س سے اپنے تعجب کا اظہار اور خلیفہ بنانے کی حکمت دریافت کرنا تھا اور انسانوں کی طرف فسادپھیلانے کی جو انہوں نے نسبت کی تو اس فساد کا علم انہیں یا توصراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا یا انہوں نے لوح محفوظ سے پڑھا تھا اوریا انہوں نے جِنّات پر قیاس کیا تھا کیونکہ وہ زمین پر آباد تھے اور وہاں فسادات کرتے تھے ۔                                       (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱/۲۸۲، ملتقطاً)
فرشتے کیا ہیں ؟ 
	فرشتے نوری مخلوق ہیں ،گناہوں سے معصوم ہیں ، اللہ تعالیٰ کے معززومکرم بندے ہیں ، کھانے پینے اور مرد یا عورت ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت جلدنمبر 1 کے صفحہ90سے ’’ملائکہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
{اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ:بیشک میں زیادہ جانتاہوں۔} فرشتوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے کیونکہ خلیفہ بنانے میں میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں۔ بات یہ ہے کہ انہی انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے، اولیاء بھی اور علماء بھی اوریہ حضرات علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔