{وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ:اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔}حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کے واقعات پر ضمنی تبصرے سے پہلے ایک مرتبہ آیات کی روشنی میں واقعہ ذہن نشین کرلیں۔واقعے کا خلاصہ: اللہتعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے فرشتوں سے فرمایاکہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے عرض کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو زمین میں اس کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح و تحمید کرتے ہیں (یعنی تیری خلافت کے مستحق ہم ہیں۔ )اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے بعد انہیں تمام چیزوں کے نام سکھادیے اورپھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ تم ہی خلافت کے مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے یہ سن کر عرض کی: اے اللہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا،ساری علم و حکمت تو تیرے پاس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: اے آدم!تم انہیں اِن تمام اشیاء کے نام بتادو ۔ جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے فرشتو!کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں تمہاری ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔
{اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً:میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔} خلیفہ اُسے کہتے ہیں جو احکامات جاری کرنے اور دیگر اختیارات میں اصل کا نائب ہوتا ہے ۔اگرچہ تمام انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں لیکن یہاں خلیفہ سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممراد ہیں اور فرشتوں کو حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خلافت کی خبر اس لیے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کریں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے پہلے ہی خلیفہ کا لقب عطا کردیا گیا ہے اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔
فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب:
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو کسی سے مشورہ کی حاجت ہو،البتہ یہاں خلیفہ بنانے کی خبر فرشتوں کوظاہری طور پرمشورے کے انداز میں دی گئی ۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے