Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
103 - 520
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ  تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اللہ  تعالیٰ  نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔
{وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا:اور اللہ  تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطورِ الہام کے آپ کو ان تمام چیزوں کے نام، کام، صفات، خصوصیات، اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔                               (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱/۲۸۵-۲۸۶)
{اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ: مجھے ان کے نام بتاؤ۔ }تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ تم سے زیادہ علم والی کوئی مخلوق نہیں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام اختیار استعمال کرنا، کاموں کی تدبیر کرنااور عدل و انصاف کرناہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اسے اختیار دیا گیاہے اور جن کا اسے فیصلہ کرنا ہے۔
علم کے فضائل:
	اس آیت میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،تمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔  
(ابن ماجہ،کتاب السنّۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلّمہ، ۱/۱۴۲، الحدیث: ۲۱۹)