چیزوں کو کھاؤ پیواور اپنے کاموں میں لاؤ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو ۔تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار کرسکتے ہو؟
ایک اہم قاعدہ:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے۔
(تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱/۲۹۱)
{وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ:اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔} کائنات کی تخلیق اور اسے وجود میں لانا اللہ تعالیٰ کے کامل علم کی دلیل ہے کیونکہ ایسی حکمت سے بھری مخلوق کا پیدا کرنا ایک ایک شے کا علم رکھے بغیر ممکن اور متصور نہیں۔کافرمرنے کے بعد زندہ ہونے کوناممکن سمجھتے تھے، ان آیتوں میں کافروں کے اس عقیدے کے غلط و باطل ہونے پر ایک عظیم دلیل قائم کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قدرت و علم والا ہے اور جسم حیات کی صلاحیت بھی رکھتاہے تو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیسے ناممکن ہوسکتا ہے؟
وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجْعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفْسِدُ فِیۡہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔