اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی، ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپیٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں )اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا۔(1) (پارہ ۴، رکوع ۹)
وہی دائم باقی ہے اور سب مخلوق فانی، اُن سب کی مِلک باطل ہونے والی ہے تونہایت نادانی ہے کہ اس مالِ ناپائی دار پر بخل کیاجائے اور راہِ خدا میں نہ دیا جائے۔(2) (خزاءن العرفان)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللّٰہ کو خوش (پسند) نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والاجو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لیے کہیں اور اللّٰہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللّٰہ اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب (ساتھی و مشیر) شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللّٰہ اور قیامت پر اور اللّٰہ کے دیئے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے اور اللّٰہ ان کو جانتا ہے اللّٰہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ (پ۵، النسآء: ۳۶ -۴۰)
1…ترجمۂ کنز الایمان:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللّٰہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگااور اللّٰہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۸۰)
2…خزائن العرفان، پ۴، آل عمرٰن ، تحت الآیۃ:۱۸۰