Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
98 - 191
 رہنا اور ان پر خرچ کرنے میں   کمی نہ کرو) اور رشتہ داروں  (حدیث شریف میں   ہے رشتہ داروں   کے  ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں  کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے۔ بخاری ، مسلم )(1)اور یتیموں  اور محتاجوں  اور پاس  کے  ہمسائے اور دور  کے  ہمسائے اور کروٹ  کے  ساتھی(یعنی بیوی یا جو صحبت میں   رہے یا رفیق سفر ہو یا ساتھ پڑھے یا مجلس ومسجد میں   برابر بیٹھے) اور راہ گیر(مسافر ومہمان)اور اپنی باندی غلام سے، بے شک اللہ کو خوش نہیں   آتا کوئی  اترانے والا بڑائی  مارنے والا (متکبر خود بیں  جو رشتہ داروں  اور ہمسایوں  کو ذلیل سمجھے )جو آپ بخل کریں  اور اوروں  سے بخل  کے  لیے کہیں  (بخل یہ ہے کہ خود کھائے دوسروں  کو نہ دے، شح یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے، سخا یہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دوسروں  کو بھی کھلائے ، جود یہ ہے کہ آپ نہ کھائے دوسروں  کو کھلائے) اور اللہ نے جو انہیں   اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں ، اور کافروں   کے  لیے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو اپنے مال لوگوں   کے  دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں    (محض نمود ونماءش اور نام آوری  کے  لیے خرچ کرتے ہیں    انہیں   رضائے الہی مقصود نہیں   ہوتی) اور ایمان نہیں   لاتے اللہ پر اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے،اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت پر، اور اللہ  کے دیئے ے میں   سے اس کی راہ میں   خرچ کرتے(اس میں   سراسر ان ہی کا نفع تھا ) اور اللہ ان کو جانتا ہے اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں   فرماتا اور اگر کوئی  نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔(2)(پارہ ۵، رکوع ۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب البیوع، باب من احب البسط فی الرزق، ۲/۱۰، الحدیث:۲۰۶۷ و کتاب الادب، باب من بسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم، ۴/۹۷، الحدیث: ۵۹۸۵ و مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا، ص۱۳۸۴، الحدیث: ۲۵۵۷
2…ترجمۂ کنزالایمان:اور اللّٰہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائو اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروںاور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ