Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
100 - 191
	اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد :
	اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں    سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں   خرچ نہیں   کرتے(بخل کرتے ہیں    اور مال  کے  حقوق ادا نہیں   کرتے ، زکاۃ نہیں   دیتے) انہیں   خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں  (اور شدتِ حرارت سے سفید ہوجائے گا) پھر اس سے داغیں  گے ان کی پیشانیاں  اور کروٹیں  اور پیٹھیں (جسم  کے  تمام اطراف وجوانب، اور کہا جائے گا)یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھومزا اس جوڑنے کا۔ (1)(پارہ ۱۰، رکوع۱۱)
	اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد :
	ہر جان اپنی کرنی میں  گروی ہے مگر د ہنی طرف والے(یعنی مومنین وہ گروی نہیں  ، وہ نجات پانے والے ہیں    انہوں  نے نیکیاں  کر کے  اپنے آپ کو آزاد کرالیا ہے وہ اپنے رب کی رحمت سے منتفع ہیں   ) باغوں  میں   پوچھتے ہیں    مجرموں  سے تمہیں   کیا بات دوزخ میں   لے گئ ؟ وہ بولے :ہم(دنیا میں  ) نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے(یعنی مساکین پر صدقہ خیرات نہ کرتے تھے) اور بیہودہ فکر والوں   کے  ساتھ بیہودہ فکریں  کرتے تھے اور ہم انصاف  کے  دن(قیامت) کو جھٹلاتے رہے یہاں  تک کہ ہمیں   موت آئی ۔ (2)(پارہ۲۹، رکوع۱۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللّٰہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سنائو درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیںیہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھومزا اس جوڑنے کا۔ (پ ۱۰، التوبۃ:۳۴-۳۵)
2…ترجمۂ کنزالایمان: ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میںگروی ہے مگر د ہنی طرف والے باغوں میں پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئ ی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین