کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو جہاد واطاعت الٰہی پر روکا ) زمین میں چل نہیں سکتے (کیونکہ انہیں دینی کاموں سے اتنی فرصت نہیں کہ وہ چل پھر کر کسب معاش کرسکیں ) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (چونکہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لئے ناواقف لوگ انہیں مالدار خیال کرتے ہیں ) تو انہیں انکی صورت سے پہچان لے گا (کہ مزاج میں تواضع وانکساری ہے ، چہروں پر ضعف کے آثار ہیں بھوک سے رنگ زرد پڑ گئ ے ہیں )لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑا نا پڑے، اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر(راہ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں ) ان کے لیے ان کا نیگ ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (1)(پارہ ۳، رکوع ۵،۶)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ(نہ جاندار کو نہ بے جان کو، نہ اس کی ربوبیت میں ، نہ اس کی عبادت میں )اور ماں باپ سے بھلائی کرو(ادب و تعظیم کے ساتھ اور ان کی خدمت میں مستعد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کرفقیروں کو دو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں ہاں اللّٰہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللّٰہ کی مرضی چاہنے کے لیے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤگے ان فقیروں کے لئے جو راہِ خدا میں ر وکے گئ ے زمین میں چل نہیں سکتے نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب تو انہیں انکی صورت سے پہچان لے گا لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑا نا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللّٰہ اسے جانتا ہے وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر)ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ۳،البقرۃ:۲۷۱-۲۷۴)