Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
96 - 191
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا) اور اللہ کی راہ میں   خرچ کرواپنے بھلے کو اور جو اپنی جان کی لالچ سے بچایا گیا (اور اس نے اپنے مال کو اطمینان  کے  ساتھ حکم شریعت  کے  مطابق خرچ کیا )تو وہی فلاح پانے والے ہیں   ، اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے(یعنی خوش دلی سے نیک نیتی  کے  ساتھ مال حلال سے صدقہ خیرات دوگے) وہ تمہارے لیے اس  کے  دونے کردے گا اور تمہیں   بخش دے گا، اور اللہ قدر فرمانے والا حلم والا ہے، ہر نہاں  اور عیاں  کا جاننے والا عزت والا حکمت والا ہے ۔ (1)(پارہ ۲۸، رکوع۱۶)
	اللہ تعالیٰ کا ارشاد: تم ہر گز بھلائی  کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے۔(2)(پارہ ۴، رکوع۱)
  	اللہ تعالیٰ کا ارشاد: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کرفقیروں  کو دو تویہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے (صدقہ فرض کا ظاہر کر کے  دینا افضل اور نفل کا چھپا کر) اور اس میں   تمہارے کچھ گناہ گھٹیں  گے اور اللہ کو تمہارے کاموں  کی خبر ہے،اور انہیں   راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں   ہاں  اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو تم اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے(تو دوسروں  کو اس کا احسان نہ جتاؤ) اور تمہیں   خرچ کرنا مناسب نہیں   مگر اللہ کی مرضی چاہنے  کے  لیے اور جو مال دو تمہیں   پورا ملے گا اور نقصان نہدیئے ے جاؤگے ان فقیروں   کے  لئے جو راہِ خدا میں   ر و کے  گئ ے(یعنی صدقہ وخیرات 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بڑا ثواب ہے تو اللّٰہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے اور فرمان سنو اور حکم مانو اور اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرواپنے بھلے کو اور جو اپنی جان کی لالچ سے بچایا گیاتو وہی فلاح پانے والے ہیں اگر تم اللّٰہ کو اچھا قرض دو گے وہ تمہارے لیے اس کے دونے کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللّٰہ قدر فرمانے والا حلم والا ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت والا حکمت والا ۔ (پ۲۸،التغابن:۱۵-۱۸)
2…ترجمۂ کنزالایمان: تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللّٰہ کو معلوم ہے۔(پ۴، اٰل عمرٰن:۹۲)