Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
94 - 191
ایثار و سخاوت
	اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد: 
 	اور اپنے دلوں  میں   کوئی  حاجت نہیں  (ان  کے  دلوں  میں   کوئی  خواہش وطلب نہیں   پیدا ہوتی) اس چیز کی جودیئے ے گئ ے اور اپنی جانوں  پر ان کو ترجیح دیتے ہیں   اگرچہ انہیں   شدید محتاجی ہو اورجو اپنے نفس  کے  لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں    یعنی اپنی ضروریات کو پس پشت رکھ کر دوسروں  کی حاجات پوری کرتے ہیں   ۔ (1)(پارہ۲۸، رکوع۴)
	اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد:
	 بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں  اور وہ جنہوں  نے اللہ کو اچھا قرض دیا (خوش دلی اور نیت صالحہ  کے  ساتھ مستحقین کو صدقہ دیا اور راہ خدا میں   خرچ کیا) ان  کے  دُونے ہیں    اور ان  کے  لیے عزت کا ثواب ہے۔(2)(پارہ ۲۷، رکوع۱۸)
	اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد :
 	اور ہمارےدیئے میں   سے کچھ ہماری راہ میں   خرچ کرو (جو صدقات واجب ہیں    وہ ادا کرو) قبل اس  کے  کہ تم میں   سے کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئ ے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں  شدید محتاجی ہو اورجو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔  (پ۲۸،الحشر:۹)
2…ترجمۂ کنزالایمان:بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللّٰہ کو اچھا قرض دیا ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔(پ ۲۷،الحدید:۱۸)