Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
93 - 191
متوکل شہزادی
	شاہ شجاع کرمانی کی ایک بیٹی تھی اس کا رشتہ ایک بادشاہ نے مانگالیکن انہوں  نے منظور نہیں   کیا ایک دن شاہ شجاع نے ایک غریب لڑ کے  کو دیکھا جو نہایت خشوع خضوع  کے  ساتھ نماز پڑھ رہا تھا وہ لڑکا نماز سے فارغ ہوا تو آپ اسے اپنے ہمراہ شاہی محل میں   لے کر آئے اور اسی وقت اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردیا۔	
	شہزادی رخصت ہو کر شوہر  کے  گھر آئی  تو اس نے ایک سُوکھی روٹی رکھی  ہوئی دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟لڑ کے  نے کہا: رات بچ گئ تھی اور روزہ افطار کرنے  کے  لیے رکھ لی ہے، یہ سن کر وہ الٹے پاؤں  پیچھے ہٹی، لڑکا بولا : میں   پہلے ہی جانتا تھا بھلا بادشاہ کی بیٹی میری غربت و ناداری پر کیوں  راضی ہوگی؟وہ بولی: بادشاہ کی بیٹی غربت و ناداری پر ناراض نہیں   ہے بلکہ اس لیے ناراض ہے کہ تم کو خدا پر بھروسا نہیں   ہے اور مجھے اپنے والد پر بھی تعجب ہے کہ مجھ سے تمہارے متعلق یہ کہا کہ یہ لڑکا بڑا نیک اور پارسا نوجوان ہے، بھلا جس کو خدا پر بھروسا نہ ہو وہ نیک اور پارسا کیسے ہوسکتا ہے؟نوجوان عذر کرنے لگا تو وہ بولی: عذر تو میں   جانتی نہیں   یا تو گھر میں   میں   رہوں  گی یا یہ روٹی رہے گی،نوجوان نے فوراً وہ روٹی خیرات کردی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الاولیاء، ذکر شاہ شجاع کرمانی رحمہ اللّٰہ،۱/۲۷۸