متوکل شہزادی
شاہ شجاع کرمانی کی ایک بیٹی تھی اس کا رشتہ ایک بادشاہ نے مانگالیکن انہوں نے منظور نہیں کیا ایک دن شاہ شجاع نے ایک غریب لڑ کے کو دیکھا جو نہایت خشوع خضوع کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا وہ لڑکا نماز سے فارغ ہوا تو آپ اسے اپنے ہمراہ شاہی محل میں لے کر آئے اور اسی وقت اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردیا۔
شہزادی رخصت ہو کر شوہر کے گھر آئی تو اس نے ایک سُوکھی روٹی رکھی ہوئی دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟لڑ کے نے کہا: رات بچ گئ تھی اور روزہ افطار کرنے کے لیے رکھ لی ہے، یہ سن کر وہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹی، لڑکا بولا : میں پہلے ہی جانتا تھا بھلا بادشاہ کی بیٹی میری غربت و ناداری پر کیوں راضی ہوگی؟وہ بولی: بادشاہ کی بیٹی غربت و ناداری پر ناراض نہیں ہے بلکہ اس لیے ناراض ہے کہ تم کو خدا پر بھروسا نہیں ہے اور مجھے اپنے والد پر بھی تعجب ہے کہ مجھ سے تمہارے متعلق یہ کہا کہ یہ لڑکا بڑا نیک اور پارسا نوجوان ہے، بھلا جس کو خدا پر بھروسا نہ ہو وہ نیک اور پارسا کیسے ہوسکتا ہے؟نوجوان عذر کرنے لگا تو وہ بولی: عذر تو میں جانتی نہیں یا تو گھر میں میں رہوں گی یا یہ روٹی رہے گی،نوجوان نے فوراً وہ روٹی خیرات کردی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الاولیاء، ذکر شاہ شجاع کرمانی رحمہ اللّٰہ،۱/۲۷۸