Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
92 - 191
	 اس ضعیف  کے  گھر  کے  دو دروازے ہیں    بادشاہ اگر ایک دروازے سے اندر آئے گا تومیں   دوسرے دروازے سے باہر نکل جاؤں  گا۔(1)

زہدوتقویٰ چیست، اے مردِ فقیر		لا طمع بودن ز سلطان و امیر
بر درِ سلطان مرو رُویش مبیں  		گنجِ قارون گر دہد رُویش مبین
گر بہ فاقہ جاں  برآید از قفس		چو مگس دستت مزن بر نانِ کس
بر سرِ خوانِ قناعت دست زن		تا نباشد دست بر فرماں شکن
پشتِ پا زن تختِ کیکاؤس را		سر بدہ از کف مدہ ناموس را
الحذر از حُبِّ دنیا الحذر 			بہرِ نان و زر مخور خونِ جگر
	زُہدوتقویٰ کیا ہے اے مردِ فقیر! بادشاہ اور امیر سے بے طمع ہونا، بادشاہ  کے  دروازے پر نہ جا، اس کا منہ نہ دیکھ، بالفرض اگر وہ تجھے قارون کا خزانہ بھی دے تو بھی اس کی طرف نہ دیکھ، اگر فاقہ  کے  سبب جان پنجرۂ تن سے نکل جائے تو بھی مکھی کی طرح اپنا ہاتھ کسی کی روٹی پر نہ مار، قناعت  کے  دستر خوان پر ہاتھ مار تاکہ تجھے اللہ کی نافرمانی کی ہمت نہ ہو، تخت کیکاؤس (2)  کو ٹھوکر مار، سردے دے لیکن ہاتھ سے آبرو نہ دے، پرہیز کردنیاکی محبت سے پرہیز کر ،روٹی اور زر  کے  لیے خونِ جگر مت پی۔	(حضرت بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرالاولیاء، باب اول در فضائل خواجگان چشت، ص۱۳۵
2… ایران کے ایک مشہور بادشاہ کا تخت۔