دہلی پہنچ کر حضرت نظام الدین اولیاء اور ان کے ہمراہیوں کو بڑی سختی برداشت کرنا پڑی کئی کئی دن گزر جاتے تھے صرف پانی سے روزہ افطار ہوتا تھااس سختی کے زمانہ میں سلطان جلال الدین خلجی نے حضرت نظام الدین اولیاء کو ایک بڑی جاگیر دینے کا فرمان بھیجا آپ نے اس خیال سے کہ سید محمد کرمانی فاقوں سے تنگ آچکے ہوں گے سید صاحب کو تخلیہ میں بلایااور فرمایا:جلال الدین خلجی کے فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟یہ سنتے ہی سید محمد کرمانی اٹھ کھڑے ہوئے ے اور فرمایا: اگر آپ نے جاگیر قبول کرلی تو پھر ہم آپ کے گھر کا پانی بھی نہیں پئیں گے؟ (1)(سیر الاولیاء ،انوار الفرید)
شان بے نیازی
حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں سلطان علاؤ الدین خلجی نے قاصد بھیج کر درخواست کی: یا حضرت! بندہ آپ کی خدمت میں حاضر ی کا خواستگار ہے اجازت ہو تو حاضر ہوجاؤں ،آپ نے جواب دیا: میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں میں غاءبانہ دعا کرتا ہوں اور غَیبت میں دعا کرنے کا اثر بھی ہوجاتا ہے، لیکن سلطان نے بار بار حاضری کے لیے اصرار کیاتو کہلا بھیجا:
خانۂ ایں ضعیف دو در دارد اگر شاہ از یک در د رآید ، من از درِ دیگر بیروں روم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرالاولیاء، باب اول در فضائل خواجگان چشت، ص۱۴