کرمان سے لاہور لا کر فروخت کیا کرتے تھے،واپسی میں پاک پتن شریف پہنچ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی زیارت کرتے ہوئے ے ملتان جاتے آخر حضرت بابا صاحب کی صحبت نے اپنا اثر دکھایا سید محمد کرمانی نے اپنا تمام اثاثہ راہِ خدا میں دے دیا اور تارک الدنیا ہو کر حضرت بابا صاحب کے درویشوں میں شامل ہوگئے۔
آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت بی بی رانی صاحبہ نے بھی اپنے خاوند کا ساتھ دیا اور حضرت بابا صاحب کی مرید ہوگئیں اور فقرو فاقہ کی زندگی بسر کرنے لگیں ، دوسرے درویشوں کے ساتھ سید محمد کرمانی بھی لنگر خانے کے لیے ٹینٹ (کریل کے پھل، ڈیلے) لینے جنگل جایا کرتے تھے مگر چونکہ عمر کا زیادہ حصہ عیش و آرام میں گزرا تھا اس لیے تیز دھوپ اور سخت گرمی میں کانٹے دار درختوں کے پھل توڑنے میں بڑی مشقت برداشت کرنی پڑتی تھی آپ کے نرم ونازک ہاتھ لہولہان ہوجاتے تھے ایک دن حضرت بابا صاحب نے فرمایا: سید کے لیے رعایت ہے وہ ڈیلے لینے جنگل نہ جایا کریں ہم نے اس کی خدمت قبول کرلی، اس طرح سید محمد کرمانی نے اٹھارہ سال گزاردیئے ے،جب حضرت بابا صاحب نے حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو خلافت عطا فرما کر دہلی بھیجا تو آپ نے سید محمد کرمانی کو بھی ان کے ہمراہ جانے کا حکم دیا اور دونوں میں مواخات (بھائی چارہ) قائم کردی تھی فرمایا:
درصحبتِ یکد یگر با شید و میانِ شما مواخات باشد ۔ (1)
ایک دوسرے کی صحبت میں رہنا اور تمہارے مابین بھائی چارہ رہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرالاولیاء، باب سوم در بیان مناقب وفضائل۔۔۔الخ، ص۲۰۹