سفرِ حج کو روانہ ہونے لگے تو اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا: تجھ کو کس قدر خرچ دے کر جاؤں ، ان کی اہلیہ نے کہا:جس قدر میری زندگی کے دن دے جاؤ اتنے دنوں کا خرچ دیتے جاؤ، حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: زندگی کے دن دینا میرے اختیار میں نہیں یہ کام تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے، ان کی اہلیہ نے کہا: تو پھر رزق پہنچانا بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے، آپ مطمءن ہو کر روانہ ہوگئے،کچھ دنوں بعد محلے کی مستورات ملنے کے لیے (ان کے گھر) آئیں اور انہوں نے پوچھا: حضرت حاتم اصم تو حج کے لیے جاچکے ہیں آپ کے اخراجات اور کھانے پینے کے لیے خرچ کی کیا صورت ہے؟ حضرت حاتم کی اہلیہ نے جواب دیا: ہاں ! کھانے والا چلا گیا ہے اور دینے والا موجود ہے۔ (ملفوظات روضے دھنی ، احیاء العلوم)
تو پھر مُردوں کا مال کس کام کا ؟
حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے ایک شخص نے کہا: فلاں آدمی نے بڑی دولت جمع کرلی ہے،فرمایا:کیا اس نے اس کے مطابق اپنی زندگی کا انتظام کرلیا ہے؟وہ بولا: نہیں ، فرمایا : تو پھر مُردوں کا مال کس کام کا۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
شانِ توکل و قناعت
حضرت سیدمحمد کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کرما ن کے رئیس تھے زرعی زمین باغات اور شہری جائی داد کے مالک تھے تاہم سیاحت کے شوق میں تجارت بھی کرتے تھے سامان تجارت