دیکھا وہ انیس روٹیاں تھیں فرمایا: یہ روٹیاں ہماری نہیں انہیں واپس لے جاؤ کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ بر حق ہے کہ دَہ دنیا سترآخرت، پس اگر یہ ہماری ہوتیں تو بیس ہوتیں ، یہ سن کر اس خادمہ نے جو ایک روٹی چھپا کر رکھ لی تھی وہ ان روٹیوں میں رکھ دی اس طرح پوری بیس روٹیاں ہوگئیں مائی صاحبہ نے مہمان فقراء سے فرمایا: آؤ کھانا کھالیں ، سب کھانا کھا چکے تو مائی صاحبہ نے فرمایا: آپ حضرات عابد زاہد اور علم ظاہر (شریعت) کے عالم تو بے شک ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پر اعتماد نہیں رکھتے توکل سے عاری ہیں ۔ (ملفوظات روضے دھنی)
ہیں توکل کن ملرزاں پا و دست رزقِ تو بر تو زِ تو عاشق تر است
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
اللہ تعالیٰ پر اعتماد رکھ بے صبری سے ہاتھ پاؤں نہ لرزا تیرا رزق تجھ سے زیادہ تجھ پر عاشق ہے۔
بر سرِ ہر دانہ بنوشتہ عیاں ایں نصیب ِابن الفلاں ابن الفلاں
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
ہر ایک دانہ پر عیاں طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ دانہ فلاں بن فلاں کے نصیب میں ہے اور یہ فلاں بن فلاں کے نصیب میں ۔
کھانے والا گیا، دینے والا موجود ہے
حضرت پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: حضرت حاتم اَصَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ