Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
87 - 191
یہ روٹیاں  ہماری نہیں   
	شیخ المشائخ سید محمد راشدحضرت پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے توکل کی تلقین کرتے  ہوئے ے فرمایا: حضرت بی بی رابعہ بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَامال و متاع اور سامانِ خوردو نوش جمع کر کے  نہ رکھا کرتی تھیں  بلکہ آپ کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ روزانہ محنت مزدوری سے جو کچھ کماتیں  اس سے اپنی اور مہمانوں  کی ضروریات پوری کرتیں  اور جو کچھ بچ رہتا وہ فی سبیل اللہ خرچ کردیا کرتی تھیں ۔ ایک دن آپ  کے  پاس فقراء کی ایک جماعت آگئ اپ  کے  پاس صرف اتنا آٹا موجود تھا کہ دو ہی روٹیاں  بن سکتیں  آپ دو روٹیاں  پکا کر مہمانوں   کے  پاس لے آئیں اتنے میں   ایک سائل  نے دروازے پر کھڑے ہو کر صدا کی: میں   بھوکا ہوں  اللہ  کے  واسطے مجھے کھانا کھلاؤ، مائی  صاحبہ نے ایک روٹی اس سائل  کو دے دی لیکن اس  کے  فورا ً بعد ایک دوسرا سائل  آگیا اس نے بھی اللہ  کے  نام پر کچھ کھانے کو مانگا تو مائی  صاحبہ نے باقی ماندہ ایک روٹی بھی اس دوسرے سائل   کے  حوالے کردی۔
	مہمان فقراء یہ ماجرہ دیکھ کر بولے: بی بی صاحبہ ! ہم کو آپ کی ولایت میں   کچھ شک نہیں   ہے تاہم باطنی علم  کے  ساتھ ساتھ ظاہری (شریعت کا) علم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ان دونوں  روٹیوں  پر ہمارا حق زیادہ تھا۔
	مائی  صاحبہ ان کا اعتراض سن کر خاموش رہیں   کچھ دیر بعد کسی امیر کی ایک خادمہ طباق میں   کچھ روٹیاں  لے کر آئی  اور مائی  صاحبہ کی خدمت میں   پیش کیں مائی  صاحبہ نے گن کر