Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
86 - 191
 دینا چاہیے آپ نے ایک دکاندار سے نمک قرض لے کر اُبلے  ہوئے ے ٹینٹوں (ڈیلوں ) میں   ڈال دیا جب دستر خوان بچھایا گیا اور دستر خوان پر فقراء جمع ہوگئے دعا پڑھنے  کے  بعد جیسے ہی بابا صاحب نے لقمہ اٹھایا فوراً واپس رکھ دیافرمایا:لقمہ گراں  ہے کوئی  مشتبہ بات معلوم ہوتی ہے،یہ سُنتے ہی خواجہ نظام الدین اولیاء کھڑے ہوگئے اور خوف سے کانپ گئ ے اور دست بستہ عرض کی: حضور ! لکڑیاں  مو لانا سید بدر الدین اسحاق لائے، ٹینٹ (ڈیلے) مولانا جمال الدین ہانسوی اور مولانا حسام الدین کابلی لائے اور ان کو جوش فقیر نے دیا سمجھ میں   نہیں   آتا کہ لقمہ گراں  کیوں  ہے، حضرت نے فرمایا: اور نمک کہاں  سے آیا؟ یہ سُنتے ہی خواجہ نظام الدین سہم گئ ے اور عرض کی: حضور کی ذاتِ گرامی کاشف حالات ہے یہ خطا مجھ ہی سے سرزد  ہوئی ہے آپ آٹھ پہر میں   ایک بار کھانا تناول فرماتے ہیں    ڈیلے کئی  دن سے بغیر نمک  کے  اُبالے جاتے رہے ہیں    آج میں   نے تھوڑا سا نمک قرض لے کر اس خیال سے شامل کردیا کہ شاید حضور شوق سے تناول فرمالیں ، فرمایا:  
	نظام الدین! اگر درویشاں  بہ فاقہ بہ میرند ، از برا ئے لذتِ نفس قرض نہ گیرند، زیرا کہ قرض و توکل بعد المشرقین ست بہم راست نئید ۔(1)
	درویش اگر فاقہ سے مر بھی جائیں تب بھی لذتِ نفس  کے  لیے قرض نہیں   لیتے کیونکہ قرض اور توکل میں   بُعدُ المشرقین ہے دونوں  ایک جگہ نہیں   سماتے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر الاولیاء ص۱۲۸