مجھے امارت کی ضرورت نہیں
ایک مرتبہ سلطان فیروز شاہ تُغلُق نے اپنے مصاحب محمد جعفر کے ذریعہ حضرت بندہ نواز گیسودراز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا:دہلی کے بادشاہوں سے آپ کے والداور دادا صاحب کا ہمیشہ تعلق رہا ہے میری خواہش ہے کہ آپ کا نام بھی میرے امرائے دربار میں شامل رہے، آپ نے جواب دیا: بادشاہ سلامت کو کہنا اول تو میں منصب اور متاع دنیوی کو آتش و اژدہا سمجھتا ہوں ، دوم خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی(رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ) کی غلامی کے آگے امارتِ ظاہری کی کچھ حقیقت نہیں ، میں فقیر ہوں میری نوکری یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرتا رہوں اللہ تعالیٰ میرا مالک و مددگار ہے۔(تاریخ فرشتہ)
تم مجھ کو اِس فتنہ سے دُور ہی رکھو
حضرت حمّاد بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے توکل اور قناعت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے گھر میں ان چار چیزوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ بچھانے کے لیے ایک بوریا، تلاوت کے لیے ایک قرآن مجید، کتابوں کا بستہ اور وضو کے لیے ایک لوٹا۔ ایک دن سلطان محمد سلیمان آپ کی زیارت کے لیے ان کے مکان پر پہنچا دروازے پر دستک دی اور حاضری کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دی وہ اندر آکر بیٹھ گیاسلطان نے عرض کی : حضرت ! یہ کیا بات ہے کہ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر رعب طاری ہوجاتا ہے،آپ نے جواب دیا : اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: عالم