قناعت آدمی کو تونگر کردیتی ہے حریص جہا ں گرد(حرص کے مارے دربدر پھرنے والے) کو اس بات کی خبر کردو۔
دو دروازے
حضرت جبرائی ل عَلَیْہِ السَّلام نے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلام کی خدمت میں عرض کی:آپ کی دنیاوی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی آپ نے دنیا کو کیسا پایا؟ فرمایا: مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا ایک مکان کے دو دروازے ہیں ایک دروازے سے اندر گیا اور دوسرے سے باہر نکل آیا۔(1) (احیاء العلوم)
دنیا خوابے ست زندگانی در وے
خوابے ست کہ در خواب بہ بینی آں را
دنیا ایک خواب ہے اور زندگی اس میں ایک خواب ہے کہ تو اسے خواب میں دیکھ رہا ہے۔
حضرت ابوعلی دَقَّاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی پگڑی
حضر ت ابو علی دَقَّاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک درویش حاضر ہوااور مجلس میں بیٹھ گیا، حضرت نے اس وقت نہایت عمدہ قیمتی پگڑی باندھ رکھی تھی درویش اس پگڑی کو دیکھ کر دل میں سوچنے لگا کہ یہ پگڑی اگر مجھے مل جائے تو کیا ہی اچھا ہو اس نے حضرت سے پوچھا: حضور ! تو کل کسے کہتے ہیں ؟ فرمایا: تو کّل کے معنے یہ ہیں کہ دوسروں کے پاس اگر کوئی اچھی چیز دیکھو تو اس کی طمع نہ کرو پھر حضرت نے پگڑی سر سے اتار کر فرمایا:یہ پگڑی نہایت عمدہ اور قیمتی ہے لو اب یہ تم ہی لے جاؤ۔(2)(کشف المحجوب)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم الدنیا، ۳/۲۵۲
2…کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۶۹