Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
82 - 191
چیونٹی کی غِذا اور اُس کی حرص
	حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: چیونٹی ایک سال میں   گندم کا ایک دانہ کھاتی ہے لیکن حرص  کے  سبب رات دن سرگرداں  رہتی ہے اور آرام نہیں   کرتی سالک کو چاہیے کہ قانع اور شاکر رہے چیونٹی کی طرح حریص نہ ہو۔(تذکرہ خواجہ سلیمان تونسوی)
	شیخ فرید الدین عطار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں   :
تا بہ  کے  چوں  مور باشی دانہ کش		گر تو مردی فاقہ را مردانہ کش
	تو کہاں  تک چیونٹی کی طرح دانے ڈھونڈتا رہے گا اگر تو مرد حق ہے تو فاقہ کو مردانہ وار برداشت کر۔
اب کون سی چیز باقی رہ گئ 
	خلیفہ وقت نے حضرت ابوحازِم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   عریضہ بھیجا کہ آپ کو جو حاجت ہو لکھ کر بھیج دیں  تاکہ ہم اس کو پورا کردیں ، آپ نے جواب میں   لکھ بھیجا کہ میں   نے اپنی تمام حاجات اللہ  کے  حضور پیش کیں  جو اس نے منظور کیں  ان کو میں   نے قبول کرلیا اور جو نامنظور کیں  میں   نے ان پر قناعت سے کام لے لیااب کون سی چیز باقی رہ گئ جو تم کو لکھ کر بھیجوں ؟ (1)(احیاء العلوم)
قناعت تونگر کند مرد را		خبر کن حریصِ جہاں  گرد را
								      (شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال،۳/۲۹۵