اُدھار نہیں دے رہا اب کیا کیا جائے، آپ نے فرمایا : اے واحد ڈنہ ! فقیر اصلی متوکل ہوتے ہیں تو ابھی اپنی کوشش ترک کر اور عنانِ اختیار ہاتھ سے چھوڑ دے۔ تھوڑی ہی دیر بعد فقیر واحد ڈنہ نے حاضر ہو کر عرض کی: قبلہ اڑھائی روپے نذرانہ مل گیا ہے، فرمایا: ان میں سے ایک روپیہ خرچ کے لیے گھر میں بھیج دو ایک روپیہ سے فقیروں کے لیے طعام کا انتظام کرو اور آٹھ آنے مہمانوں پر خرچ کردو۔
ابھی بمشکل ایک ہی گھڑی گزری ہوگی کہ فقیر واحد ڈنہ پھر آیا اور بولا: قبلہ اڑھائی روپیہ نذرانہ میں اور آگئے ہیں ، فرمایا: پہلے کی طرح یہ بھی خرچ کردو، اس نے عرض کی: قبلہ سردی کا موسم ہے ان میں سے کچھ رقم مہمانوں کے صبح کے ناشتہ کے لیے رکھ لی جائے تو مناسب ہوگا،آپ نے برہم ہو کر فرمایا: اے واحد ڈنہ ! تو ہمارے رزق کی راہ بند کر کے چھوڑے گا ہمارا رزق اس وقت کشادہ ہوگا جب تو مرجائے گا ، تعجب ہے کہ ابھی تھوڑی دیرہی پہلے تجھے کوئی ادھار بھی نہیں دے رہا تھا اور اب تو کل صبح کے لیے بچا کر رکھ لینے کی سوچ رہا ہے۔(ملفوظات روضے دھنی)
اپنے رازق کو نہ پہچانے تومحتاجِ ملوک
اورپہچانے توہیں تیرے گدا دار ا و جم ( علامہ اقبال )
تو اب تیسری بات بتانے میں کیا فا ئدہ ؟
ایک شخص نے چڑیا کو پکڑلیا چڑیا نے پوچھا: تم مجھے پکڑ کر کیا کرو گے؟وہ بولا: میں تجھ کو بھون کر کھاؤں گا، چڑیا بولی : میرا ننھا سا جسم تیری مٹھی کو نہیں بھرسکتا تیرا پیٹ میرے