Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
79 - 191
میرے پاس جمع کرائے تاکہ میں   ان کی طرف سے حضرت قبلہ پیر سائیں کی خدمت میں   لے جا کر پیش کروں  جن میں   کپڑا سونے چاندی  کے  زیورات وغیرہ شامل تھے۔ میں   ان تمام چیزوں  کو لے کر سلطان فقیر نظامانی اور سید میر علی شاہ  کے  ہمراہ درگاہ شریف پہنچا قبلہ پیر سائیں اس وقت ایک باغیچہ میں   تشریف فرماتھے ، میاں  قابل شاہ اور خلیفہ آدم خان ہم سے پہلے حضورمیں   حاضر تھے ہم نے حاضر خدمت ہو کر تمام اشیاء آپ  کے  سامنے رکھ دیں  آپ نے فرمایا: واہ واہ! تو دیدہ و دانستہ یہ حرکت کرتا ہے؟ اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر ہمارے گھر میں   پھینکتا ہے اس طرح نہیں   کرنا چاہیے۔
	میں   نے عرض کی: حضور میں   یہ چیزیں  اپنے گھر سے نہیں   لایا ہوں  درگاہ شریف  کے  مریدوں  نے آپ  کے  حضور پیش کرنے  کے  لیے مجھے دی ہیں    مجھے تو جو کچھ ملتا ہے درویشوں  میں   تقسیم کردیا کرتا ہوں  یا خیرا ت کردیا کرتا ہوں ۔
	فرمایا:جو کچھ ہمارے لیے یا تمہارے لیے ملے سب درویشوں  کو دے دیا کرو یا خیرات کردیا کرو۔ (ملفوظاتِ روضے دھنی)
جب تو مرے گا ہمارا رزق کشادہ ہوگا
	حضرت پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  خلیفہ محمد لقمان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں    کہ ایک دن حضرت  کے  ہاں  کچھ مہمان آگئے اتفاقاً حضرت  کے  پاس خورد و نوش کا کوئی  سامان نہ تھا آپ  کے  خادم فقیر واحد ڈنہ کی کوشش  کے  باوجود بازار سے کوئی  چیز ادھار بھی نہ مل سکی تو اس نے حضرت کی خدمت میں   عرض کی: حضور ! کوئی  دکاندار