طبائع مانوس نہیں ہو پاتیں لیکن جب وہی بات کسی واقعہ یا تمثیل کے سانچے میں ڈھال کر کہی جائے تو اسے ذہن نشین ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
قرآن و حدیث میں سابقہ اُمتوں کے سبق آموز تذکرے موجود ہیں جن میں عبرت و نصیحت کے بے شمار مَدنی پھول ہیں ۔اسی طرح انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ السَّلَام کی مبارک زندگیوں کے پرکیف اور پرسوز واقعات بھی اپنے اندر بے پناہ تاثیر رکھتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے ان پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کی عبادات و ریاضات، اِخلاص وتقویٰ، عدل وصدق،حسن ِاَخلاق اوردیگر صفات کادل کی گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اس طرح ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان مبارک ہستیوں کے صدقے ہمیں بھی عبادت کا ذوق و شوق نصیب ہوگا،اخلاق و کردار میں بہتری آئے گی اور دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
اس سلسلے میں علماء و مشائخ کی مختصر اور مفصل کئی کتب سے اِستفادہ کیا جاسکتا ہے مثلاً حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بوستانِ سعدی،مولانا جلال الدین رومی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مثنوی مولانا روم،علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عیون الحکایات، حضرت شیخ فرید الدین عطار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تذکرۃ الاولیاء اور ان کے علاوہ سیر الاولیائ،روض الفائق،قلیوبی شریف وغیرہ بھی معروف ہیں نیز اس حوالے سے ’’ مکتبۃ المدینہ ‘‘کی درج ذیل مطبوعات کا مطالعہ بھی انتہائی مفید و دلچسپ ہے:
عجائب القرآن و غرائب القرآن، عیون الحکایات، حکایتیں اور نصیحتیں،حضرت عمر بن عبد العزیز (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی 425حکایات، 152رحمت بھری حکایات، کراماتِ