Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
7 - 191
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
پیش لفظ
	انسانی طبیعت میں فِطری طور پر قصے کہانیوں سے دلچسپی پائی جاتی ہے لیکن اس فطری شوق کی تکمیل کے لیے بدقسمتی سے رُومانی ناوِلوں، ڈائجسٹوں اور مختلف قسم کے میگزینز وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے جن میں عشق و محبت کے گندے شہوت انگیز اَفسانے ، لڑکے اور لڑکیوں میںدوستیاں کرنے ، انہیں نبھانے اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے انداز، جاسوسی اور ایکشن کے نام پر جھوٹے اور فرضی قِصّے، حیا سوز و غیر اَخلاقی کہانیاں اور نہ معلوم کیا کچھ ہوتا ہے۔ آج کے نوجوان طبقے میں پائی جانے والی بے راہ روی اور آزاد خیالی کی ایک بڑی وجہ یہی ناول اور میگزین ہیں  جن کی بدولت غیر محسوس انداز میں معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں سر اٹھا رہی ہیں  لہٰذا ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس فطری خواہش سے جنگ کرنے کی بجائے اس کا رخ صحیح سمت میں موڑا جائے اور بجائے ناوِل اور میگزینز پڑھنے کے بامقصد اور سبق آموز قَصَص و واقعات کا مطالعہ کیا جائے اس طرح تکمیل شوق کے ساتھ ساتھ اِصلاح کا سامان بھی کیا جا سکتا ہے۔
	پند و نصائح کے باب میں بھی حکایات و واقعات کو ایک خاص اَہمیت حاصل ہے اور یہ تجربہ سے ثابت ہے کہ وعظ و نصیحت کے انداز میں براہِ راست کی گئی بات سے عام