Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
78 - 191
 کیا کہ ایک مرتبہ قحط  کے  زمانہ میں   شیخ عبدالوہاب اپنے ایک دوست  کے  ساتھ ایک مسجد میں   تھے ایک کونہ میں   یہ اور دوسرے کونہ میں   وہ عبادت ِ الہٰی کررہے تھے دونوں  نے طے کرلیا تھا کہ ہم آپس میں   گفتگو نہ کریں  گے نیز کسی سے کھانا نہ مانگیں  گے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کچھ کھائیں گے متواتر بیس دن اسی طرح گزر گئ ے ان دونوں  نے باہم کوئی  بات نہیں  کی اور نہ کھانا کھایا اکیسویں  دن ایک حلوائی  مسجد میں   آیا اور ان دونوں   کے  درمیان کھانا رکھ کر چلا گیا ان دونوں  نے اس میں   سے کچھ نہ کھایا بائیسویں  دن وہ حلوائی  پھر مسجد میں   آیا اور جو کھانا لایا تھا ان  کے  سامنے رکھ کر چلا گیا اس مرتبہ بھی ان دونوں نے کھانے کو ہاتھ تک نہ لگایا تئیسویں  دن وہی حلوائی  کھانا لے کر آیا جب اس نے دیکھا کہ پہلے دو دنوں  میں   لایا ہوا کھانا جوں  کا توں ویسے ہی پڑا ہے تو اب کی بار اس نے اپنے ہاتھ سے لقمے بنا کر ان دونوں  کو کھانا کھلایا۔
	یہ اس زمانے کا قصہ ہے جب کہ شیخ عبدالوہاب مکہ معظمہ نہیں   آئے تھے اور اس وقت آپ کی عمر تقریباً پندرہ سولہ سال کی ہوگی آپ اپنی عمر  کے  بیسویں  سال مکہ معظمہ آئے اور شیخ علی متقی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صحبت میں   رہنے لگے۔(1)(اخبار الاخیار)
اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ ہمارے گھر میں   ڈالتے ہو!
	حضرت پیرسائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  خلیفہ محمود نظامانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں    کہ ایک دفعہ پیرسائیں  کے  مریدوں  نے نذر و نیاز کی بہت سی اشیاء اور تحفے تحائف 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اخبار الاخیار، ص۲۷۸