نصیحت کرتے ہوئے ے کہا کرتا ہے کہ دنیا اچھی چیز ہے ہماری زندگی اور موت میں کام آتی ہے لہٰذا اس کی حفاظت کرنی چاہیے اس پر حضرت نے فرمایا: اے میاں مبارک ایک عورت انتہائی بدصورت تھی پیٹ ڈھول کی مانند آنکھیں چوہے کی آنکھوں جیسی اور چمڑی جنگلی گوہ کی چمڑی کی طرح تھی جب اس کے لیے اور کوئی رشتہ نہ ملا توا س کے ماں باپ نے مجبور ہو کر ایک نابینا کے ساتھ اس کی شادی کردی یہ عورت شوہر کے سامنے اپنی خوبصورتی بیان کیا کرتی کہتی:میری آنکھیں ہرنی کی آنکھوں کو شرماتی ہیں میرے چہرے کے سامنے چاند کی چاندنی ماند پڑ جاتی ہے میں اتنی حسین و جمیل ہوں کہ عورتیں مجھے دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں میں سوچتی ہوں کہ آپ کس قدر خوش نصیب ہیں کہ مجھ جیسی یگانہ روزگار بیوی آپ کو میسرآ گئ ۔
ایک دن اس کے نابینا شوہر نے اسے جھڑک کر کہا: اگر واقعی تو خوبصورت ہوتی تو کسی مالدار سیٹھ کے نکاح میں ہوتی مجھ کنگال اندھے کے پلے نہ پڑتی۔
اسی طرح یہ حرافہ دنیا اندھے دنیاداروں کی نظر میں خود کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی اور ان کو فریفتہ کرتی ہے لیکن اہلِ معرفت اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں اور اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ (ملفوظات روضے دھنی)
ہست دنیا پیر زال و پُرفریب میکند پیر و جواں را ناشکیب
دنیا بوڑھی عورت فریب سے بھری ہے بوڑھے اور جوان کو بے صبر بنادیتی ہے۔
گر برافتد پردہ از روئے مجاز نفرت گیری ز زالِ حیلہ ساز
اگر دنیا کے چہرے سے پردہ اُلٹ جائے تو تواس حیلہ گر بڑھیا سے نفرت کرنے لگے۔