قَالَ اللہُ تَعَالٰی:
وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ۔ (1)
اگر اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ زمین میں فساد وسرکشی پھیلا دیتے ۔
آں کس تو نگرت نہ مے گرداند اومصلحت تو ز تو بہتر داند(2)
(گلستانِ سعد ی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ )
وہ جو تجھے تونگر نہیں بناتا، وہ تجھ سے زیادہ تیری مصلحت کو جانتا ہے۔
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : وہ شخص کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسےدیئے ے ہوئے ے پر قناعت دی۔(3)(مسلم)
یعنی جسے ایمان و تقوی، بقدرِ ضرورت مال اور تھوڑے مال پر صبر، یہ چار نعمتیں ملگئیں اس پر اللہ کا بڑا ہی کرم و فضل ہوگیا وہ کامیاب رہا اور دنیا سے کامیاب گیا۔
اندھے کی بیوی
حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ میاں لقمان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت روضے دھنی کے حضور میں میرمبارک ٹالپر نے اپنے والد میر سہراب خان کی عقلمندی اور دانائی کی تعریف کرتے ہوئے ے کہا:ہمارا باپ ہم کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:اوراگر اللّٰہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلا تے۔(پ۲۵،الشورٰی:۲۷)
2…گلستان سعدی، باب سوم درفضیلت قناعت، ص۹۳
3…مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فی الکفاف والقناعۃ، ص ۵۲۴، الحدیث: ۱۵۴