Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
76 - 191
زِشت ِروئے اوچوں  آید در نظر	 	از خدا خواہی اماں  اے بے خبر
	اے بے خبر ! اگر کسی وقت تجھے اس کا (اصلی) چہرۂ بد نظر آجائے تو اسی وقت تو اللہ کی پناہ مانگ اٹھے۔
عارفاں  دادند او را صد طلاق		ہر کہ عاشق شد برو اُوگشت عاق
	عارفوں نے اسے سو طلاقیں  دے رکھی ہیں    جو اس پر عاشق ہوگیا وہ اللہ کا نافرمان (باغی) بن گیا۔ (حضرت بو علی قلندررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
خِلعتِ سُلطانِ عشق
	حضرت مخدوم شیخ عبدالقادر الملقّب بہ شیخ عبدالقادر ثانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  نام بادشاہِ وقت نے ایک فرمان بایں  مضمون جاری کیا : اگر آپ ہم کو اپنی تشریف آوری سے نوازیں  تو عین سعادت ہوگی اور اس سے پہلے ہماری مجلس میں   حاضر ہونے میں   جتنی تقصیرات  ہوئی ہیں    وہ ہم نے سب کی سب معاف کر دی ہیں   ، آپ نے بادشاہ کو جواب میں   لکھا :
ہیچ باب ازیں  باب روئے گشتن نیست	ہر آنچہ بر سرِ ما مے رود مبارکباد
کسے کہ خلعت سلطانِ عشق پوشیدہ ست	بحلہائے بہشتی کجا شود دلشاد
	ہم ( اللہ تعالیٰ  کے  ) اس دروازے کو چھوڑ کر کسی  کے  دروازے پر نہیں   جاسکتے اس  کے  نتیجہ میں   ہم کو جو کچھ برداشت کرنا پڑے ہم خندہ پیشانی سے برداشت کریں  گے( راہِ خدا میں   پہنچنے والی ہر تکلیف کو اپنے حق میں   مبارک سمجھیں گے) جس شخص نے سلطانِ عشق کی خلعت پہن لی ہو جنتی پوشاکوں  سے بھی اس کا دل کہاں  خوش ہوسکتا ہے۔ (1)(اخبار الاخیار)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اخبار الاخیار، ص۲۰۴