وہ ہڈیاں کھانے کے شوق میں تیرتا ہوا دوسرے کنارے کے قریب پہنچا تو اس طرف کے گاؤں سے ڈھول کی آواز بند ہوگئ اور دوسری طرف کے گاؤں سے ڈھول کی آواز سنائی دی کتا پلٹ کر تیرتا ہوا اسی جانب بڑھنے لگا لیکن جب اس کنارے کے قریب آیا تو اِدھر کا ڈھول بجنا بند ہوگیا اور دوسری طرف بجنے لگا، کتے نے وہیں سے دوسری جانب تیرنا شروع کردیائیہی یا ماجرا بار بار ہوتا رہااور حریص کتا ادھر ادھر آنے جانے ہی میں تھک ہار کر مرگیا۔
اے عزیز ! طالب حق کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر وقت یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ رہے جو شخض کبھی حق تعالیٰ کی طرف رُخ کرتا ہے اور کبھی دنیا کی طرف تو آخر کار اس کا انجام بھی خانہ بدوشوں کے کتے کا سا ہوتا ہے۔(ملفوظات روضے دھنی)
نہ خدا ہی مِلا نہ وصالِ صنم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دُوں ایں خیال ست و محال ست و جنوں
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
تُو خدا کا وصال بھی چاہتا ہے اور دنیا کا حصول بھی یہ تیرا محض خیال ہے یہ امر محال ہے اور تیرا پاگل پن ہے۔
دین ودنیا ہر دو کے آید بدست ایں فضولیہامکن اے خود پرست
(بوعلی قلندررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
دین اور دنیا دونوں کب ہاتھ آسکتے ہیں اے خود پرست یہ فضولیات نہ کر۔