Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
71 - 191
 بوسی  کے  لیے حاضر ہونا چاہتا ہوں  اجازت کا طلب گار ہوں  آپ نے سختی  کے  ساتھ انکار فرمادیا، اس  کے  کچھ عرصہ بعد آپ جب تحصیل’’ مہنڈر‘‘  کے  دورہ پر نکلے تو مدارپور  کے  مقام پربلدیوسنگھ مع ارکان حکومت حاضر خدمت ہوا ملاقات  کے  دوران راجہ نے ایک پروانہ پیش کیا جس میں   تحریر تھا کہ میں   بحیثیت والی ریاست پونچھ آپ کو مواضعاتِ ذیل کی جاگیراور دس ہزار روپیہ نقد بطورِ نذرانہ پیش کرتا ہوں ، یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: فقیروں  کو مال و دولت سے کیا کام! تم پونچھ  کے  والی ہو اور فقیر وں  کی یہ ساری دنیا ہے یہ فرما کر روپیہ اور جاگیر قبول کرنے سے انکار کردیا۔(تذکرہ مشائخ چشت)
آز بگذار و پادشاہی کُن 		گردنِ بے طمع بلند بود
                                                                                               (حضرت سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ) 
	حرص و لالچ چھوڑ اور بادشاہی کر، بے طمع کی گردن بلند رہتی ہے۔
خانہ بدوشوں  کا کتا
	شیخ المشائخ سید محمد راشدملقّب بہ پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حرص و طمع کی مذمت میں   بطورِ تمثیل ارشاد فرمایا:خانہ بدوشوں   کے  پاس ایک کُتا تھا وہ ہڈیاں  کھانے کا اس قدر حریص تھا کہ جہاں  کہیں   سے ڈھول بجنے کی آواز سنتا دوڑتا ہوا وہیں   پہنچ جاتا۔ ایک دن دو گاؤں  میں   شادیاں  تھیں  اور دونوں  گاؤں   کے  درمیان ایک نہر تھی نہر  کے  کنارے خانہ بدوشوں  نے ڈیرا لگارکھا تھا کتے نے نہر  کے  ایک طرف  کے  گاؤں  سے ڈھول کی آواز سنی تو اس نے اُس گاؤں  میں   پہنچنے کی خاطر نہر میں   چھلانگ لگادی