Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
70 - 191
 اس کی خبر بادشاہ  کے  وزیر عبدالرحیم خانخاناں  کو  ہوئی تو اس نے کئی  لاکھ روپیہ آپ کی خدمت میں   زادِ راہ  کے  لیے بطورِ نذرانہ پیش کیا اور التجا کی: مجھے امید ہے کہ حضرت اس حقیر نذرانہ کو قبول فرما کر ممنون فرمائیں  گے،آپ بے حد ناراض  ہوئے ے اور روپیہ یہ کہہ کر واپس کردیا کہ ہم فقیروں   کے  لیے ہرگز مناسب نہیں   کہ ہم مخلوقِ خدا کی گاڑھی کمائی  کا مال ضائع کر کے  حج کو جائیں یہ تو رعایا کا ہی حق ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء)
یہ چیزیں  ضرورت مندوں  کو دی جائیں 
	حضرت شیخ المشائخ بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی خدمت میں   ایک بار سلطان ناصر الدین حاضرہوا اور آپ کی صحبت سے اس قدر متأثرہواکہ اپنے وزیر خاص  کے  ذریعہ چند مواضعات کی جاگیر اور بہت سا روپیہ بطورِ نذرانہ ارسالِ خدمت کیا آپ نے جاگیر کا فرمان اور روپیہ قبول کرنے سے شدت  کے  ساتھ انکار کرتے  ہوئے ے فرمایا: میں   ہدایت کرتا ہوں  کہ یہ چیزیں  ضرورت مندوں کو دی جائیں ہمارے خواجگان چشت نے ہمیشہ ان چیزوں  سے پرہیز کیاہے۔(سیرالاولیاء)
فقیروں  کو مال و دولت سے کیا کام 
	حضرت صید علی شاہ صاحب سوہاوی (کشمیری) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں  والی پونچھ راجہ بلدیوسنگھ نے سردار محمد اکرم خان رئیس اعظم و سپرنٹنڈنٹ پولیس خواجہ عبداللہ رئیس پونچھ اور میاں نظام الدین وزیر  کے  ذریعہ پیغام بھیجا کہ میں   آپ کی خدمت میں  قدم