Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
69 - 191
 تھا کہ امیر خسرو کے  توسط سے حضرت کی ملاقات ہوجائے گی اوردلی تمنابرآئے گی امیر خسرو نے بادشاہ سے یہ وعدہ کر تو لیا مگر پھر دل میں   سوچا کہ اگر میں   حضرت کی اجازت لیے بغیر بادشاہ کو ان کی خدمت میں   لے گیا تو کہیں   وہ خفا نہ ہوجائیں انہوں نے حضرت کی خدمت میں   حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کردیا، حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ ماجرا سن کر اسی وقت شہر چھوڑ کر اپنے پیرومرشد  کے  پاس اجودھن (پاک پتن) تشریف لے گئے سلطان کو جب اس کی خبر لگی تو اس نے امیر خسرو سے باز پُرس کی امیر خسرو نے نہایت دلیری سے کہا: مجھے بادشاہ کی رنجش سے صرف جان کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن اگر مُرشد رنجیدہ ہوجاتے تو ایمان کاخطرہ تھا۔(1)(سیر الاولیاء)
میں   جاگیرقبول نہیں   کرسکتا
	ایک مرتبہ سلطان شمس الدین التمش نے اپنے پیرومرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   ایک بڑی جاگیر کی پیش کش کی اور عاجزانہ درخواست کی کہ حضور ! یہ جاگیر قبول فرمالیں آپ نے سختی  کے  ساتھ انکار فرمادیا اور کہا: ہمارے خواجگانِ چشت نے اس قسم کی جاگیریں  قبول نہیں   کیں  میں  کیونکر قبول کرسکتا ہوں ۔                                    (سیرالاولیاء) 
یہ تو رعایا کا ہی حق ہے
	حضرت خواجہ باقی باللہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب حج کی نیت سے سفر حجاز کا ارادہ کیا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرالاولیاء، باب اول در فضائل  خواجگان چشت،ص۱۳۵