تھا کہ امیر خسرو کے توسط سے حضرت کی ملاقات ہوجائے گی اوردلی تمنابرآئے گی امیر خسرو نے بادشاہ سے یہ وعدہ کر تو لیا مگر پھر دل میں سوچا کہ اگر میں حضرت کی اجازت لیے بغیر بادشاہ کو ان کی خدمت میں لے گیا تو کہیں وہ خفا نہ ہوجائیں انہوں نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کردیا، حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ ماجرا سن کر اسی وقت شہر چھوڑ کر اپنے پیرومرشد کے پاس اجودھن (پاک پتن) تشریف لے گئے سلطان کو جب اس کی خبر لگی تو اس نے امیر خسرو سے باز پُرس کی امیر خسرو نے نہایت دلیری سے کہا: مجھے بادشاہ کی رنجش سے صرف جان کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن اگر مُرشد رنجیدہ ہوجاتے تو ایمان کاخطرہ تھا۔(1)(سیر الاولیاء)
میں جاگیرقبول نہیں کرسکتا
ایک مرتبہ سلطان شمس الدین التمش نے اپنے پیرومرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک بڑی جاگیر کی پیش کش کی اور عاجزانہ درخواست کی کہ حضور ! یہ جاگیر قبول فرمالیں آپ نے سختی کے ساتھ انکار فرمادیا اور کہا: ہمارے خواجگانِ چشت نے اس قسم کی جاگیریں قبول نہیں کیں میں کیونکر قبول کرسکتا ہوں ۔ (سیرالاولیاء)
یہ تو رعایا کا ہی حق ہے
حضرت خواجہ باقی باللہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب حج کی نیت سے سفر حجاز کا ارادہ کیا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرالاولیاء، باب اول در فضائل خواجگان چشت،ص۱۳۵