Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
68 - 191
	امیروں  کی خدمت میں   درخواست پیش کرنے سے کپڑوں  میں   پیوند لگاکر گزارا کرلینااور صبر پر قائم رہنا زیادہ بہتر ہے سچ تویہ ہے کہ ہمسایہ کی مدد سے جنت میں   جانا عذاب جہنم  کے  برابر ہے۔(1)
سُلطان کی مُلاقات سے فرار
	حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بادشاہوں   کے  قرب کو سخت ناپسند کرتے تھے اور ان کی ملاقا ت سے بچتے رہتے تھے ایک غریب کو تو اختیار حاصل تھاکہ جس وقت چاہے آپ کی خدمت میں   حاضر ہوجائے اور حضرت کو اپنے جس کام  کے  لیے چاہے لے جائے لیکن بادشاہ  کے  لیے یہ اجازت نہ تھی کہ وہ بے تکلف آپ کی خدمت میں   چلا جائے۔
	سلطان جلال الدین (2) خلجی کو حضرت کی ملاقات کی بڑی تمناتھی، اس نے حاضری کی اجازت طلب کی لیکن حضرت نے سختی  کے  ساتھ منع کردیا امیر خسرو رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دربار سے متعلق تھے سلطان نے ان سے کہا: مجھے کسی صورت حضرت کی زیارت سے مشرف کرادیں ، حضرت امیر خسرو نے سلطان سے وعدہ کرلیا کہ حضرت سے اجازت لیے بغیر ہی وہ کسی وقت سلطان کو حضرت کی خدمت میں   لے جائیں گے بادشاہ بڑا مسرور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی اس خود دار درویش کے نزدیک کسی مالدار سے بھیک ما نگ کر کشائش و وسعت پانا اور اس کا احسان اٹھانا اتناہی تکلیف دہ ہے جتنا آگ میں جلنا۔علمیہ
2…یہاں سلطان علاؤالدین لکھا تھا لیکن سیر الاولیاء میں سلطان جلال الدین ہے لہٰذ ا ہم نے یہاں علاؤالدین کے بجاءے سیر الاولیاء کے مطابق جلال الدین لکھا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ