Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
67 - 191
بہ ناداناں  چناں  روزی رساند	کہ دانا اندراں حیراں  بہ ماند
	 اگر روزی عقل سے بڑھ جایا کرتی تونادان سے بڑھ کر کوئی  تنگ دست نہ ہوتا۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ)نادانوں  کو اس طرح سے روزی پہنچاتا ہے کہ دانا اس میں   حیران رہ جاتا ہے۔ 
سوال کرنے سے مرجانا بہتر ہے
	ایک درویش فقر و فاقہ کی زندگی بسر کرتا تھااور پرانے کپڑوں  پر پیوند پر پیوند لگاتا تھا اور اپنے دل کو یہ کہہ کر تسکین دیتا کہ
بہ نانِ خشک قناعت کنیم و جامہ ء دلق	کہ رنج ِ محنت ِخود بہ کہ بارِمنت ِخلق
	ہم خشک روٹی پھٹے پرانے کپڑوں  پر قناعت کرتے ہیں   اس لیے کہ لوگوں  کا بارِ احسان اٹھانے سے اپنی محنت کی تکلیف اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔
	کسی شخص نے مشورہ دیا کہ اس تکلیف میں   کیوں  پڑے ہو؟ اسی شہر میں   فلاں  آدمی بڑا سخی ہے وہ اس قدر فیاض اور رحم دل ہے کہ اگر اس کو تیری غربت کا پتہ چل جائے تو وہ خود تجھ کو اسقدر خیرات دے کہ تم خوشحال ہوجاؤ تم اس  کے  پاس جاؤ اور اپنی حالت بیان کرو وہ تمہیں   خالی ہاتھ نہیں   رہنے دے گادرویش نے جواب دیا: خاموش رہ کہ کسی  کے  آگے دست ِ سوال دراز کرنے سے فقرو فاقہ کی حالت میں   مرجانا زیادہ بہتر ہے۔
ہم رقعہ دوختن بہ والزام کنج صبر	کزبہرجامعہ رقعہ برخواجگان بنشت
حقّا کہ باعقوبت دوزخ برابرست	رفتن بہ پائے مرددیئے ے ہمسایہ دربہشت(1)
(گلستان سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…گلستان سعدی، باب سوم در فضیلت قناعت، ص۸۶