بادشاہِ وقت نے پانچ سو روپے اور ایک گاؤں کا فرمان بھیجا ہے تم کیا کہتی ہو آیا میں یہ ہدیہ لے لوں ؟
آپ کی اہلیہ محترمہ نے جواب دیا: اے خواجہ! تُوچہ میخواہی کہ فقرِ چندیں سالۂ خود را باطل کنی! تو خاطر جمع دار من دو سیر ریسماں بدستِ خود رشتہ ام ازاں مقدار جامہ خواہد شدکہ ترا فوطہ و مرا دامنے خواہد شد ۔
اے خواجہ !کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے اتنے برسوں کے فقر کو باطل کرلیں آپ خاطر جمع رکھیں میں نے دو سیر سوت اپنے ہاتھ سے کات لیا ہے جس سے آپکا تہبنداور میرا دوپٹہ بن جائے گا۔
یہ جوا ب باصواب سن کرحضرت بہت مسرور ہوئے ے اور کوتوال کے پاس پہنچ کر کہا: میں یہ نذرانہ قبول نہیں کرسکتاکیونکہ مجھ کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور بِلا ضرورت کیوں لیا جائے۔(1) (سیرالاولیاء ، انوارالفرید)
روزی کا دار و مَدار عقلمندی پر نہیں
شاہِ فارس نے ایک حکیم سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض احمق بڑے مالدار ہوتے ہیں اور عاقل عموماً محروم رہتے ہیں ؟ حکیم نے جواب دیا: صانع نے یہ چاہا کہ لوگ مجھ کو پہچانیں اس لیے کہ اگر ہر عقل مند مالدار ہوتا اور ہر احمق محروم رہتا تو ہر کوئی یہ سمجھتا کہ رز ق کا دارومدار عقل پر ہے لیکن جب لوگ معاملہ اس کے برعکس دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ رازق کوئی اور ہی ہے ظاہری اسباب کا کچھ اعتبار نہیں ۔
اگر روزی بہ دانش برفزودے ز ناداں تنگ تر روزی نہ بُودے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر الاولیاء، ص۱۵۷