یاروں میں سے فقراء کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : وہ اس حال میں ہیں کہ اگر انہیں کوئی کچھ دے دے تو شکر کریں اورنہ دیں تو صبر کریں ۔ حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : بَلْخ کے کتوں کا بھی یہی حال ہے۔ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پوچھا : آپ کے ہاں کیسے فقیر ہیں ؟ حضرتِ شقیق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : ہمارے ہاں کے ایسے فقیر ہیں کہ اگر انہیں کوئی کچھ نہ دے تو شکر کریں اور اگر دے تو خود پر دوسروں کو ترجیح دیں اور انہیں دے دیں ۔ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ان کا سر چُوم لیا اور فرمایا : استاد بجا فرماتے ہو۔ (1)( احیاء العلوم)
سعادت مند بیوی
سلطان التارکین صوفی حمید الدین ناگوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت خواجہ خواجگان معین الدین چشتی اجمیری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ تھے، آپ نے تمام عمر صرف دو چادروں میں بسر کردی ایک بیگھہ زمین تھی جس میں خود اپنے ہاتھوں سے کاشت کرتے تھے آپ کی غذا سردیوں میں باجرے کا دلیہ اور گرمیوں میں جو کا دلیہ تھی جس میں نمک بھی نہ ہوتا تھا ایک مرتبہ سلطان التمش نے پانچ سو روپیہ نقد، ایک دیہہ کی جاگیر کا فرمان، کچھ کپڑا، آٹا، شکر، گھی وغیرہ اپنے کوتوال کے ذریعہ بھیجا، سلطان التارکین نے اس خیال سے کہ دیکھیں میری اہلیہ شاہی عطیہ کے بارے میں کیا کہتی ہے گھر آکر اہلیہ محترمہ سے پوچھا:
بادشاہ عہد پنج صد تنکہ نقرہ و فرمان یکدیہہ فرستادہ است توچہ میگوئی بستائم؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم،کتاب الفقر والزھد، بیان احوال السائل ین، الجزء الرابع، ص۲۶۵