Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
64 - 191
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ  بِالْھُدٰیص فَمَارَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَ مَاکَانُوْا مُھْتَدِیْنَ(o) (1) 	یہ وہ لوگ ہیں    جنہوں  نے گمراہی خریدی ہدایت  کے  بدلے تو ان کی تجارت نے انہیں   کچھ  فا ئدہ     نہ پہنچایااوریہ ہدایت یافتہ نہیں  ۔
 	میں   نے عرض کی: حضور ! یہ لوگ کس قدر ذلت میں   گرفتار ہیں    کہ لوگوں  کی نظروں  میں   ذلیل ہورہے ہیں   ، شیخ نے فرمایا: ان  کے  پیر کو مرید جمع کرنے کی حرص  ہوئی تو اس  کے  مریدوں  کو دنیا جمع کرنے کی حرص ہوگئ۔(2)(کشف المحجوب)
بَلْخ  کے  کُتّے
        حضرت شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک مرتبہ خراسان سے چل کر حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  پاس ملاقات  کے  لیے پہنچے اور ان (3)سے پوچھا: آپ نے اپنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:یہ وہ لوگ ہیں  جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔(پ۱،البقرۃ:۱۶)
2…کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۴
3…یہاں لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا جبکہ احیاء العلوم میں اس کے برعکس ہے یعنی حضرت شقیقرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہنے حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا، اسی طرح آخر تک حضرت شقیق کے بجاءے حضرت ابراہیم بن ادھم کا اور حضرت ابراہیم بن ادھم کے بجاءے حضرت شقیق کا نام لکھا تھا ، چونکہ مؤلف نے احیاء کا حوالہ دیا ہے لہٰذا ہم نے اس واقعہ کو احیاء کے مطابق درست کر کے لکھ دیا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ