تنگ دل کوفہ کی جامع مسجد میں پہنچا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پڑا ہے جس کے سرے سے پاؤں ہی نہیں ہیں اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا اور اپنے ننگے پاؤں غنیمت سمجھے۔(1)(گلستان)
سیاہ پوشی کی وجہ
ایک بے علم مُدّعی نے ایک بزرگ سے دریافت کیا: حضرت آپ نے سیاہ پوشی کیوں اختیار فرمائی ہے، بزرگ نے جواب دیا: حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تین چیزیں چھوڑ ی تھیں فقر، علم، شمشیر، شمشیر تو بادشاہوں نے لے لی مگر اسے صحیح طور پر استعمال نہ کیا ،علم علماء نے اختیار کیا مگر اسے پڑھنے پڑھانے تک ختم کردیا، فقر کو فقراء نے اختیار کیا مگر اسے وسیلۂ حصولِ مال و جاہ بنالیا، میں نے ان تینوں کے غم میں سیاہ پوشی اختیار کی۔(2)(کشف المحجوب)
جیسے پیرویسے مرید
سید الاولیاء حضرت داتا گنج بخش قُدِّسَ سِرُّہٗفرماتے ہیں : ایک دن میں اپنے شیخ کے ہمرکاب تھا چلتے چلتے آذر بائی جان کی آبادی سے گزرنے لگے تو دیکھا کہ دو تین خرقہ پوش گندم کے ڈھیروں پر کھڑے ہیں انہوں نے کسانوں کے سامنے جھولیاں پھیلا رکھی ہیں حضرت شیخ نے یہ دیکھ کر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…گلستان سعدی، باب سوم در فضیلت قناعت، ص۹۵
2…کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۱