بکواسی سینکڑوں آرزوئیں تیرے دل میں ہیں خدا کا نور تیرے دل میں کیونکر آئے گا۔ (بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
میں انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا وارث بنا، تو فرعون و ہامان کا
مصر میں ایک امیر کے دو لڑ کے تھے ان میں سے ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرا مال و دولت جمع کرنے میں لگ گیا آخر کار ایک عالم وفاضل اور علامہ بن گیا اور دوسرا مصر کا بادشاہ بن گیا جو بادشاہ بنا تھا وہ اپنے بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھتااور کہتا: مجھے دیکھو کہ میں حکومت کررہا ہوں اور میرے بھائی کی حالت بھی دیکھو کہ اب تک غریبی و مفلسی کا شکار ہے۔
ایک دن اس کے بھائی نے اس سے کہا: تجھ سے زیادہ اللہ کی نعمت مجھ پر ہے اس کے فضل و کرم کا جس قدر شکر کروں کم ہے کہ مجھ کو انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کی میراث ملی اور تجھے فرعون وہامان کی، یعنی مجھے علم و فضل حاصل ہوا اور تجھے ملک مصر کی حکومت ملی۔ (1) (گلستانِ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
ننگے پاؤں
حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے کبھی زمانہ کی سختیوں کا شکوہ نہیں کیا لیکن ایک موقعہ پرد امن استقلال ہاتھ سے چھوٹ گیانہ میرے پاؤں میں جوتی تھی اور نہ جوتی خریدنے کی استطاعت تھی، میں اسی ناگفتہ بہ حا لت میں غمگین و
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…گلستان سعدی، باب سوم درفضیلت قناعت، حکایت نمبر۲، ص۸۵