پوستین دیکھ کر پہچان گئے کہ یہ حبیب عجمی کی ہی ہے اس خیال سے وہیں کھڑے ہوگئے کہ شاید آپ واپس آجائیں تھوڑی دیر بعد حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ واپس آئے تو حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کہا: آپ کی پوستین یہاں دیکھ کر رُک گیا تھا تعجب ہے کہ اتنی وزنی پوستین کے گرِ جانے کی آپ کو خبر نہ ہوئی، حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بے نیازی سے جواب دیا:میں خود ہی پھینک کر چلا گیا تھا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حیران ہو کر پوچھا: کیوں بھلا کس کے بھروسے پر؟حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہنس کر بولے: جس نے آپ کو یہاں اتنی دیر رو کے رکھا۔(1)(تذکرۃ الاولیاء)
غلاموں کاغلام
ایک بادشاہ نے ایک درویش سے کہا: اگر آپ کی کوئی حاجت ہو تو مجھ سے بیان کریں تاکہ میں حاجت روائی کردوں ، درویش نے جواب دیا:جو آدمی میرے غلاموں کا غلام ہومیں اس سے حاجت روائی نہیں چاہتا، بادشاہ نے کہا:یہ کس طرح؟ درویش نے کہا:میرے دو غلام ہیں اور وہ دونوں تیرے مالک(آقا) ہیں : ایک حرصِ دنیا اور دوسرا طولِ امل یعنی امیدغیرمُتَناہی۔(2) (کشف المحجوب)
حرصِ تو دلقِ قناعت پارہ کرد نفس امارہ ترا آوارہ کرد
صد تمنا در دلت اے بو ا لفضول کے کند نور خدا در دل نزول
تیری حرص نے قناعت کی گدڑی چا ک کردی نفس امارہ نے تجھ کو آوارہ کردیااے بیہودہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرۃ الاولیاء، باب ششم، ص ۵۸
2…کشف المحجوب، باب اثبات الفقر، ص۲۱