Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
59 - 191
	تیرے لیے بہتر یہ ہے کہ تو کھانے پینے  کے  لیے دربدر پھرتا نہ رہے روپے پیسے کی خاطر خود کو ذلیل نہ کرے تجھے چاہیے کہ تو اہل دولت کی صحبت کو ترک کردے اور گوشۂ عافیت اختیار کرے تاکہ کسی آفت میں   پڑجانے سے بچ رہے۔
تیرا رزق تیری تلاش میں   ہے
        حضرت ابو یعقوب اقطع بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں   :ایک بار جب کہ میں   حرم شریف میں   مقیم تھا دس روز بھوکا رہا مجھ پر جب ضعف غالب ہوا تو سوچا کہ باہر چلیے جنگل کی طرف نکلا تاکہ کوئی  ایسی چیز ہاتھ لگے جو میں   کھا سکوں ، میں   نے دیکھا کہ ایک شلجم زمین پر پڑا ہے میں   نے شلجم اٹھالیا لیکن میرے دل میں   معاً خیال گزرا دس روز فاقے سے رہا اور آخر کو لیا تو ایک سڑا شلجم لیا میں   نے وہ شلجم پھینک دیا اور حرم شریف میں   واپس چلا آیا ابھی میں   بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی آیا وہ میرے سامنے آکر بیٹھ گیا اورایک تھیلا میرے سامنے رکھ دیا بولا: یہ آپ ہی  کے  لیے ہے، میں   نے پوچھا: تم نے مجھ کو کیونکر خصوصیت دی،اس شخص نے جواب دیا:ہم دس روز سے سمندر میں   تھے ہماری کشتی طوفان میں   گھر گئ قریب تھا کہ ڈوب جائے میں   نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں   ڈوبنے سے بچالے تو میں   یہ شیرینی فقرامیں   سے اس شخص کو دوں  گا جو حرم شریف میں   سب سے پہلے مل جائے اور یہاں  آکر مجھے تم ہی نظر پڑے ہو، میں   نے کہا:اچھا تو اسے کھولو اس نے کھولا تو اس میں   مصری میدہ مغز بادام اور برفی بھری  ہوئی  ملی میں   نے ہر چیز میں   سے ایک ایک مٹھی لے لی اور اس سے کہا: باقی چیزیں  تم لے جاؤ میری طرف سے اپنے ساتھیوں