گزرنا مشکل تھا وہاں پہنچ کر آپ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ نہ تو میں کسی آبادی میں جاؤں گا نہ کسی سے کچھ مانگوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کوئی چیز کھاؤں گا ہاں اگر کوئی دوسرا شخص گھی میں شہد ملا کر اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں ڈال دے گاتو کھالوں گا، دو دن اور دو راتیں فاقے سے گزر گئ تیسری رات ایک قافلہ راستہ بھول کر اس طرف آنکلا حضرت بایزید رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اہل قافلہ کو دیکھ کر ایک درخت کے نیچے لیٹے گئ ے آنکھیں موندلیں اور منُہ بند کر کے دانتوں کو دانتوں پر سختی کے ساتھ جما کر بے حس و حرکت پڑ رہے۔ اہل قافلہ میں سے چند آدمی لکڑیاں چنتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی بے حِس وحرکت پڑا ہے کہنے لگے:خدا جانے بیچارا کب سے بے ہوش پڑا ہے ؟ انہوں نے اپنے سردار کو مُطَِّلع کیا سردارِ قافلہ نے آپ کو ہلا جلا کر دیکھا پھر بولا:بے ہوشی سخت ہے شاید یہ مشکل ہی بچے تاہم ہمیں اس کی زندگی بچانے کی کچھ تدبیر کرنی چاہیے، صلاح یہ ٹھہری کہ گھی میں شہد ملا کر اس کے حلق میں ڈال دیا جا ئے لیکن کھلا ئیں کیونکر؟سردار نے رائے دی اس کے دانت توڑدیئے ے جائیں اور گھی میں شہد ملا کر اس کے حلق میں ڈال دیا جائے اہل قافلہ نے گھی میں شہد ملا دیا اور آپ کے دانت توڑ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت بایزید سے بطورِ الہام فرمایا: اگر تو اپنی مرضی سے نہ کھائے گا تو ہم تیرے دانت تڑوا کر کھلادیں گے، حضرت بایزید ہنس پڑے اور گھی شہد کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(ملفوظاتِ روضے دھنی)
ہیں توکل کن ملرزاں پا و دست رزقِ تو بر تو زِ تو عاشق تر است
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)